بنگلورو،12؍جون(ایس او نیوز)کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کے مطالبہ کو لے کر آج اپوزیشن پارٹیوں نے ریاستی حکومت کا گھیراؤ کیا اور دباؤ ڈالاکہ کسانوں کے قرضہ جات کو ہر حال میں معاف کیا جانا چاہئے۔ اس سلسلے میں ایوان میں موجود وزیر قانون ٹی بی جئے چندرانے کہاکہ وہ اس معاملہ پر وزیر اعلیٰ سدرامیا سے تبادلۂ خیال کریں گے ، مختلف محکموں کی مانگوں پر بحث کے دوران یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا اس کا جواب دیتے وقت اس معاملہ کی وضاحت کریں گے۔ صفر ساعت میں جنتادل (ایس) کے کوننا ریڈی اور اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے کسانوں کے مسائل کو اچھالتے ہوئے کہاکہ مہادائی منصوبہ کی تکمیل سرحدی علاقوں میں پانی کی فراہمی اور آبپاشی کا انتظام اور دیگر مانگوں کو لے کر مختلف تنظیموں کی طرف سے آج بند منایا جارہا ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں اگر وضاحت نہ ہوئی تو لوگوں میں انتشار برقرار رہے گا۔ جگدیش شٹر نے کہاکہ تمام ریاستوں کے کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کا مطالبہ کانگریس نائب صدر راہول گاندھی نے رکھا ہے ۔ فی الوقت وہ دورۂ بنگلور پر آئے ہوئے ہیں۔ اسی لئے ریاستی حکومت ان سے مشورہ کرکے اپنے موقف کا اعلان کرے۔ مہاراشٹرا اوراترپردیش حکومتوں نے وہاں کے کسانوں کے قرضہ جات معاف کردئے ہیں۔ ریاستی حکومت غیر ضروری طور پر مرکزی حکومت کو نشانہ بناکر کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کی ذمہ داری سے اپنا دامن نہ جھاڑے ۔ وشویشور ہیگڈے کاگیری نے شٹر کی حمایت کرتے ہوئے جئے چندرا سے کہاکہ کانگریس اعلیٰ کمان اب بنگلور میں موجود ہے، اسی لئے آج ہی وزیر اعلیٰ سدرامیا اگر چاہیں تو کسانوں کے قرضہ جات معاف کرسکتے ہیں۔